Showing posts with label india. Show all posts
Showing posts with label india. Show all posts

Monday, 15 December 2014

‫خفیہ باغ: 18 سال کی محنت کا منہ بولتا ثبوت

انسانی ہاتھوں سے تیار کردہ آبشاروں اور مجسموں سے سجے اس باغ کے اندر نیک چند بتا رہے ہیں کہ کس طرح وہ اٹھارہ برس تک راتوں کو خفیہ طریقے سے کام کرتے تھے اور کس طرح انہوں نے شمالی ہندوستان میں پریوں کا یہ نگر تخلیق کیا۔
وہ رات گئے اپنی سائیکل پر سوار ہوکر گھپ اندھیرے میں ریاست کے ملکیتی جنگل میں نکل جاتا اور وہاں اٹھارہ سال تک راتوں کی تاریکی میں زمین کو صاف کرکے اس جگہ کو جادوئی باغ میں تبدیل کرنے میں لگا رہا جو بیس ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
نیک چند نے اے ایف پی کو اپنی 90 ویں سالگرہ کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا "میں نے چندی گڑھ میں اس باغ کو مشغلے کے طور پر 1950 کی دہائی میں تعمیر کرنا شروع کیا تھا اور اٹھارہ سال تک کسی کو بھی اس کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا، جس کی وجہ یہاں جنگل کا ہونا تھا اس لیے یہاں کس نے آنا تھا اور کس لیے؟ یہاں آنے جانے کے لیے سڑکیں بھی موجود نہیں تھیں"۔
اب یہ باغ ایک اہم سیاحتی مرکز بن چکا ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد آتے ہیں۔
تقسیم برصغیر کے بعد ہونے والے فسادات میں لاتعداد عمارات ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں اور اس ملبے سے روڈ انسپکٹر کا کام کرنے والے نیک چند نے وہ چیزیں منتخب کیں جو اس کی نظر میں بہت اہمیت رکھتی تھیں — اے ایف پی فوٹو
تقسیم برصغیر کے بعد ہونے والے فسادات میں لاتعداد عمارات ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں اور اس ملبے سے روڈ انسپکٹر کا کام کرنے والے نیک چند نے وہ چیزیں منتخب کیں جو اس کی نظر میں بہت اہمیت رکھتی تھیں — اے ایف پی فوٹو
مٹی کے ٹکڑے، شیشہ اور ٹائلوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے باتھ رومز کے حصوں کو بھی مرد و خواتین، پریوں، شیطانوں، ہاتھیوں اور بندروں کے مجسمے بنانے کے لیے استعمال کیا گیا — اے ایف پی فوٹو
مٹی کے ٹکڑے، شیشہ اور ٹائلوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے باتھ رومز کے حصوں کو بھی مرد و خواتین، پریوں، شیطانوں، ہاتھیوں اور بندروں کے مجسمے بنانے کے لیے استعمال کیا گیا — اے ایف پی فوٹو
نیک چند کے بقول "میرے پاس متعدد خیالات تھے اور میں ہر وقت اس باغ کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا، میں نے تمام تعمیراتی سامان ملبے سے اکھٹا کرکے سائیکل پر لاد کر مطلوبہ مقام پر پہنچانا شروع کیا" — اے ایف پی فوٹو
نیک چند کے بقول "میرے پاس متعدد خیالات تھے اور میں ہر وقت اس باغ کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا، میں نے تمام تعمیراتی سامان ملبے سے اکھٹا کرکے سائیکل پر لاد کر مطلوبہ مقام پر پہنچانا شروع کیا" — اے ایف پی فوٹو
جب نیک چند کا یہ راز 1976 میں سامنے آیا تو انتظامیہ نے اس باغ کو گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے زمینی ملکیت کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے مگر حیرت میں مبتلا عوام نیک چند کے پیچھے تھے جس کے باعث اسے چندی گڑھ کے اس نئے نویلے پہاڑی باغ کا سربراہ بنا دیا گیا — اے ایف پی فوٹو
جب نیک چند کا یہ راز 1976 میں سامنے آیا تو انتظامیہ نے اس باغ کو گرانے کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے زمینی ملکیت کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے مگر حیرت میں مبتلا عوام نیک چند کے پیچھے تھے جس کے باعث اسے چندی گڑھ کے اس نئے نویلے پہاڑی باغ کا سربراہ بنا دیا گیا — اے ایف پی فوٹو
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیک چند نے فنون لطیفہ یا مجسمہ سازی کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کر رکھی بلکہ انہیں یہ خیال بچپن میں اس وقت آیا تھا جب وہ اپنے گاﺅں میں دریا کے کنارے کھیلا کرتے تھے اب وہ مقام پاکستان کا حصہ ہے — اے ایف پی فوٹو
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیک چند نے فنون لطیفہ یا مجسمہ سازی کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کر رکھی بلکہ انہیں یہ خیال بچپن میں اس وقت آیا تھا جب وہ اپنے گاﺅں میں دریا کے کنارے کھیلا کرتے تھے اب وہ مقام پاکستان کا حصہ ہے — اے ایف پی فوٹو
نیک چند فاﺅنڈیشن کے ایک برطانوی رضاکار ایلن سیزرانو کے مطابق "یہی وجہ ہے کہ ان مجسموں کا معیار بچکانہ محسوس ہوتا ہے اور ان کو غور سے دیکھنے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ درحقیقت یہ ایک افسانوی ریاست کا بچگانہ ورژن ہے" — اے ایف پی فوٹو
نیک چند فاﺅنڈیشن کے ایک برطانوی رضاکار ایلن سیزرانو کے مطابق "یہی وجہ ہے کہ ان مجسموں کا معیار بچکانہ محسوس ہوتا ہے اور ان کو غور سے دیکھنے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ درحقیقت یہ ایک افسانوی ریاست کا بچگانہ ورژن ہے" — اے ایف پی فوٹو
اس نے مزید کہا "درحقیقت یہ اپنی طرز کا دنیا میں واحد مقام ہے، انتظامیہ اور عوام کو اس کی اہمیت کا احساس کرنا چاہئے اور اس کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہئے" — اے ایف پی فوٹو
اس نے مزید کہا "درحقیقت یہ اپنی طرز کا دنیا میں واحد مقام ہے، انتظامیہ اور عوام کو اس کی اہمیت کا احساس کرنا چاہئے اور اس کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہئے" — اے ایف پی فوٹو
اسی طرح کچھ پُرجوش سیاح اکثر آبشاروں یا دیگر چیزوں پر چڑھ جاتے یا لیٹ جاتے ہیں جس سے ان نازک اشیاء کو نقصان پہنچتا ہے، اس باغ کی دیکھ بھال کرنے والے رضاکاروں میں شامل مانی ڈھلون کا کہنا ہے " ایک ایسا ملک جو اپنی کچی بستیوں اور کچرا گھروں کی بناء پر زیادہ جانا جاتا ہو وہاں یہ پہاڑی باغ ایک غیرمعمولی مثال سمجھا جاسکتا ہے" — اے ایف پی فوٹو
اسی طرح کچھ پُرجوش سیاح اکثر آبشاروں یا دیگر چیزوں پر چڑھ جاتے یا لیٹ جاتے ہیں جس سے ان نازک اشیاء کو نقصان پہنچتا ہے، اس باغ کی دیکھ بھال کرنے والے رضاکاروں میں شامل مانی ڈھلون کا کہنا ہے " ایک ایسا ملک جو اپنی کچی بستیوں اور کچرا گھروں کی بناء پر زیادہ جانا جاتا ہو وہاں یہ پہاڑی باغ ایک غیرمعمولی مثال سمجھا جاسکتا ہے" — اے ایف پی فوٹو
ان کے بقول اس باغ کے راستے نقاشی سے مزئین کیے گئے، یہاں خفیہ چیمبر اور آنگن بھی موجود ہیں "میں اپنی سائیکل پر روزانہ چار چکر لگا کر سامان پہنچاتا تھا میں نے لوگوں کی نظر میں کچرے کی حیثیت اختیار کرنے والے سامان میں خوبصورت آرٹ تلاش کرلیا تھا" — اے ایف پی فوٹو
ان کے بقول اس باغ کے راستے نقاشی سے مزئین کیے گئے، یہاں خفیہ چیمبر اور آنگن بھی موجود ہیں "میں اپنی سائیکل پر روزانہ چار چکر لگا کر سامان پہنچاتا تھا میں نے لوگوں کی نظر میں کچرے کی حیثیت اختیار کرنے والے سامان میں خوبصورت آرٹ تلاش کرلیا تھا" — اے ایف پی فوٹو
نیک چند نے وہاں اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ سینکڑوں مجسمے سجا رکھے ہیں جن میں بیشتر کو تباہ شدہ مکانات کے ملبے اور بے کار ذاتی مصنوعات جیسے برقی ساکٹس، سوئچز، چوڑیوں اور سائیکل کے فریمز وغیرہ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے — اے ایف پی فوٹو
نیک چند نے وہاں اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ سینکڑوں مجسمے سجا رکھے ہیں جن میں بیشتر کو تباہ شدہ مکانات کے ملبے اور بے کار ذاتی مصنوعات جیسے برقی ساکٹس، سوئچز، چوڑیوں اور سائیکل کے فریمز وغیرہ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے — اے ایف پی فوٹو
کچھ مجسمے ٹوٹی ہوئی چوڑیوں سے تیار کیے گئے جس میں لڑکیوں کو ناچتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جیسے جیسے اس خفیہ باغ کی خبر پھیلنا شروع ہوئی وہاں لگائے جانے والے ٹکٹوں کی فروخت بھی بڑھنے لگی اور اب روزانہ ہندوستان بھر اور بیرون ملک سے تین ہزار کے لگ بھگ افراد اس حیرت کدہ کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں — اے ایف پی فوٹو
کچھ مجسمے ٹوٹی ہوئی چوڑیوں سے تیار کیے گئے جس میں لڑکیوں کو ناچتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جیسے جیسے اس خفیہ باغ کی خبر پھیلنا شروع ہوئی وہاں لگائے جانے والے ٹکٹوں کی فروخت بھی بڑھنے لگی اور اب روزانہ ہندوستان بھر اور بیرون ملک سے تین ہزار کے لگ بھگ افراد اس حیرت کدہ کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں — اے ایف پی فوٹو
نیک چند کے مجسمے اب دنیا بھر کے میوزیمز کا حصہ بن رہے ہیں جن میں واشنگٹن کا نیشنل چلڈرن میوزیم اور دیگر شامل ہیں تاہم چندی گڑھ میں اس باغ کو اپنی بقا کے چیلنج کا سامنا ہے جس کی وجہ ریاستی حکومت کی جانب سے کم فنڈز کی فراہمی اور ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی خود لے لینا ہے — اے ایف پی فوٹو
نیک چند کے مجسمے اب دنیا بھر کے میوزیمز کا حصہ بن رہے ہیں جن میں واشنگٹن کا نیشنل چلڈرن میوزیم اور دیگر شامل ہیں تاہم چندی گڑھ میں اس باغ کو اپنی بقا کے چیلنج کا سامنا ہے جس کی وجہ ریاستی حکومت کی جانب سے کم فنڈز کی فراہمی اور ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی خود لے لینا ہے — اے ایف پی فوٹو
نیک چند اب بھی اس باغ کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور یہاں روزانہ ہی آتے ہیں مگر ان کی بڑھتی عمر اور کمزور بینائی کے باعث ان کے لیے نئے مجسموں کی تخلیق کا وقت نہیں رہا — اے ایف پی فوٹو
نیک چند اب بھی اس باغ کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور یہاں روزانہ ہی آتے ہیں مگر ان کی بڑھتی عمر اور کمزور بینائی کے باعث ان کے لیے نئے مجسموں کی تخلیق کا وقت نہیں رہا — اے ایف پی فوٹو
تاہم وہ اپنے نصف صدی پرانے حیرت انگیز باغ کو بچانے کے لیے پُرعزم ہیں "میں کسی بات سے خوفزدہ نہیں ہوں، اگر میں خوفزدہ ہوتا تو کس طرح جنگل میں رات کی تاریکی میں کام کرپاتا؟ — اے ایف پی فوٹو
تاہم وہ اپنے نصف صدی پرانے حیرت انگیز باغ کو بچانے کے لیے پُرعزم ہیں "میں کسی بات سے خوفزدہ نہیں ہوں، اگر میں خوفزدہ ہوتا تو کس طرح جنگل میں رات کی تاریکی میں کام کرپاتا؟ — اے ایف پی فوٹو

Wednesday, 26 November 2014

Phillip Hughes dies aged 25


Australia news

Phillip Hughes dies aged 25

November 27, 2014
Comments: 312 | Login via  | Text size: A | A
Phillip Hughes has died as a result of the injuries he sustained when struck by a bouncer on Tuesday, Cricket Australia has confirmed. He was 25.
Team doctor Peter Brukner confirmed the news in a statement released on Thursday afternoon.
"It is my sad duty to inform you that a short time ago Phillip Hughes passed away," Brukner said. "He never regained consciousness following his injury on Tuesday. He was not in pain before he passed and was surrounded by his family and close friends.
"As a cricket community we mourn his loss and extend our deepest sympathies to Phillip's family and friends at this incredibly sad time. Cricket Australia kindly asks that the privacy of the Hughes family, players and staff be respected."
Players, coaches and other friends had been in and out of St Vincent's Hospital in Sydney throughout Wednesday and Thursday, visiting Hughes and supporting his family, and each other. Australia's captain Michael Clarke, a close friend of Hughes', had been at the hospital until after midnight on Wednesday night and returned at about 6am on Thursday.
Brad Haddin, Steven Smith, Shane Watson, David Warner, Nathan Lyon, Moises Henriques, Mitchell Starc and Daniel Smith all spent time at the hospital, as did Ricky Ponting, Simon Katich, Phil Jaques and Brett Lee. Some flew in from interstate, including Aaron Finch, Matthew Wade, Peter Siddle, Peter Forrest, George Bailey, Ed Cowan, Justin Langer, and Cricket Australia's CEO James Sutherland and high performance manager Pat Howard. The national coach Darren Lehmann was there as well.
Also keeping vigil at the hospital were the Hughes family, including his mother and sister, who had been at the Sheffield Shield match between South Australia and New South Wales on Tuesday when Hughes was struck by the bouncer while batting on 63.
"The entire NSW cricket community offers our heartfelt condolences to Phillip's mother and father Virginia and Greg, sister Megan and brother Jason at this most difficult of times," John Warn, the Cricket New South Wales chairman said. "Their grief is being felt across the country and around the cricket world as the extended cricket family comes to terms with the sad loss of a very popular and talented young player.
"Phillip touched so many people playing for NSW, Australia, South Australia, county cricket in England and the IPL in India. A lovable, quiet and affectionate young man from the farming community of Macksville, Phillip has left an indelible impression on the game as a player and a person."
"So many in the NSW cricket family know Greg, Virginia, Jason and Megan personally. It is tragic that Phillip has been taken from them so young. He reflected their strong country values and warmth as a loving, caring family."
Andrew Jones, the Cricket NSW chief executive, said: "Phillip is fondly remembered as a bright and cheeky young man with an infectious smile who emerged as an outstanding junior more than a decade ago. Like so many NSW and Australian players before him, Phillip moved to Sydney to play Grade Cricket and found a home at Western Suburbs.
"He rose quickly through the ranks, debuting for NSW and scoring a century in a Sheffield Shield final at 19. For all his good humour he took cricket very seriously and always worked tremendously hard at his game. Despite being in and out of the Australian team during his emerging years Phillip never complained when he was dropped or overlooked. He always focused on making himself a better player.
"It was typical of Phillip that he was fighting his way back into the national team again with a fine innings for South Australia against NSW at the SCG last Tuesday before suffering a freak accident. Phillip had already scored 26 first class centuries and his best cricket was ahead of him. It is unspeakably sad he cannot now achieve his potential in the game."
On Tuesday, Hughes was playing against his former state when he missed his attempted hook and the ball struck him below the helmet, causing a cerebral haemorrhage. He underwent surgery on Tuesday after being rushed to hospital from the SCG, and was then in an induced coma.
"It's really a matter of millimetres and the bad luck of the actual site of the impact," sports doctor Peter Larkins told the Australian on Wednesday. "It's very critical what part of the brain gets hit, you can actually just get a bruised brain or simply a crack in the skull when you get hit in certain parts of the head and not have anything as serious as Phillip has got. In this case it's hit a particular artery at the base of the neck that has burst.
"There's just an incredible release of blood from the burst artery and that's where the bleeding in the brain, the cerebral haemorrhage, occurs."
Hughes played 26 Tests for Australia and scored three centuries, and he appeared a strong chance to win a recall for next week's first Test against India at the Gabba, with Clarke expected to be ruled out due to injury. Hughes first emerged as an international cricketer on the 2009 tour of South Africa, where at the age of 20 in Durban he became the youngest man ever to score two centuries in a Test.
He scored 26 first-class centuries and was a prolific scorer for New South Wales, for whom he had debuted at the age of 18, and later for South Australia. Hughes had been part of Australia's most recent Test squad, for the series against Pakistan in the UAE, but he was not called on to play a Test in that series0

Saturday, 22 November 2014

MARRIAGE OF Arpita Khan

Arpita Khan




Arpita Khan Wiki and Biography

Arpita Khan, the adopted sister of Salman Khan was born and brought up in Mumbai. She is famous for being Salman Khan's little sister. She is the youngest member of Bollywood's famous khan family. Arpita Khan has no aspirations of facing the camera. She is the adopted daughter of Salim Khan and Salma Khan. She is currently working with a leading architectural and interior design firm. Arpita tied the knot to long time boyfriend Aayush Sharma on 18 November 2014 at Taj Faluknama Palace, Hyderabad.

Education

Arpita holds a degree in fashion marketing and management from London College of Fashion, and is currently working with a leading architectural and interior design firm. On fashion industry she said, "In keeping with the course I'm doing, I'll be involved in the business side of fashion. And I might just launch a fashion label, one that will be on par with its international counterparts." and even not succeeds in that then she will even try in film production.

Personal Profile

Name : Arpita Khan
Date of Birth : 1 August 1989
Age : 25 years
Height : 5'2"(approx)
Husband : Aayush Sharma
Hometown : Mumbai, Maharashtra, India

Family

Arpita Khan is the youngest daughter of yester year writer Salim Khan and Salma Khan. She is the youngest sister of Salman Khan, Arbaaz Khan and Sohail Khan. She is the only adopted child of Salim and Salma Khan.

She is closest to her mom (Salma Khan) and brother Sohail on this she said, "Mom is someone I share the minutest details with. As for Sohail bhai, he is the one I turn to more often than not." Dad Salim Khan is not far behind either as he always bails her out whenever she's facing a decision problem. "Whenever I'm confused, my dad helps me see things for what they are. I can always fall back on him."

Boyfriend

Arpita Khan was dating Aayush Sharma who hails from Delhi and finally got married to him on November 18. It has been learnt that Aayush nurtures a dream of making a career in Bollywood. In the past six months Arpita and Aayush have been spotted at nightspots in Bandra. The couple also enjoyed a vacation with their respective families in Shimla recently.

Sunday, 29 December 2013

منگنی کے بعد

                                             منگنی کے بعد                                                                    rana kamran

 
نئی زندگی کے لیے پرانے رشتوں کو نظرا نداز کرنا درست نہیں۔ فوٹو: فائل
بیٹی کی نسبت طے ہوجائے تو والدین اور بہن بھائی بھی اسے مہمان خیال کرنے لگتے ہیں۔ خوشی اور غم کی ایک عجیب ملی جلی سی کیفیت ہوتی ہے کہ جس بیٹی کو بچپن سے اب تک پالا پوسا آج ایک دم سے پرائی پرائی سی محسوس ہونے لگی۔
ایک خوشی ہوتی ہے کہ بیٹی اپنے گھر کی ہوجائے گی۔۔۔ ایک ذمہ داری پوری ہو جائے گی، لیکن ایک عجیب  بے چینی سی بھی تھی کہ بیٹی جا رہی ہے۔۔۔ اب اس پر ہمارا حق نہیں رہا اب یہ کسی اور کی امانت ہے۔ ایک دوسرے سے منسوب ہوجانے کے بعد لڑکا اور لڑکی ذہنی طور پر اپنی نئی زندگی کے لیے خود کو تیار کرنے لگتے ہیں کہ اب انہیں مستقبل میں رشتہ ازدواج میں بندھنا ہے، خاص طور پر لڑکیاں یہ سمجھتی ہیں کہ اب ان کی آنکھوں میں سجے سپنے سچ ہونے کا وقت ہے۔ اس کے ساتھ منگنی کے بعد وہ خود کو منگیتر کی پسند کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیتی ہیں۔ اپنے طور پر وہ اپنے جیون ساتھی کو خوش رکھنے کے لیے  نہایت خوش دلی سے اپنی بہت سی خواہشات بھی پس پشت ڈال دیتی ہیں۔
منگنی کے بعد لڑکی کے خود کو تبدیل کرنے کے اس عمل کو بعض اوقات گھر والے بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔۔۔ بالخصوص بہن بھائی اس کا اظہار بھی کر ڈالتے ہیں کہ ابھی تو تمہاری شادی نہیں ہوئی اور تم ابھی سے ایسا کرنے لگی ہو؟  بات  اگر مذاق مذاق میں ختم ہوجاتے تو ٹھیک، لیکن اگر گھر والے، اس تبدیلی کو اپنے لیے اجنبی خیال کرنے لگیں، تو لڑکی بھی اس رویے تبدیلی کو محسوس کرلیتی ہے کہ اس کا خود کو تبدیل کرنا والدین اور گھر والوں کو زیادہ پسند نہیں آرہا، مگر دوسری طرف اس کا من تو اب مستقبل کے خواب بُن رہا ہوتا ہے۔ اس کا آنے والا کل تو اب ایک نئے گھر میں شروع ہونا ہے، وہ خود کو اس تبدیلی کے لیے تیاری سے کس طرح غافل رکھ سکتی ہے، مگر دوسری طرف وہ یہ بھی جانتی ہے کہ والدین کے گھر میں وہ اپنا طرز زندگی بدل کر اجنبی سمجھی جا رہی ہے۔ اسے گھر والوں کا یہ کہنا کہ اب تو تم اپنے نئے گھر والوں کو ہی اہمیت دیا کروگی۔۔۔ بہت عجیب سے احساس سے دوچار کر دیتا ہے۔ بعض اوقات والدین بھی یہ کہنے لگتے ہیں، کہ ہاں اب تو تمہیں ہمارے مشورے کی ضرورت ہی نہیں۔ ایسے میں لڑکی خود کو ایک دوراہے پر کھڑا محسوس کرتی ہے۔ ایک طرف مستقبل کاخیال تو دوسری طرف حال کی فکر۔۔۔ ایک طرف وہ نئے لوگوں کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے تو دوسری طرف اسے اپنے گھر میں اجنبی سے بن جانے کا احساس۔۔۔ ایسے میں لڑکیاں خاصی پریشانی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
ایسی صورت حال سے دوچار لڑکی کو چاہیے کہ وہ پہلے تو اپنے گھر والوں کو یہ بات سمجھائے کہ وہ غلط نہ سمجھیں، میں اب بھی اس ہی طرح ان کی بیٹی اور بہن ہوں، لیکن مجھے اب نئے گھر کے تقاضوں کے لیے بھی کچھ چیزوں کو اختیار کرنا ہے، بہ صورت دیگر مجھے نئی زندگی سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری محسوس ہوگی۔۔۔ کیا آپ یہ چاہیں گے کہ میں آنے والے دنوں میں ایسی مشکلات سے دوچار ہوں؟ یقیناً کبھی بھی نہیں، تو اس لیے آپ ایسا نہ سوچیں کہ میں کوئی غیر اور اجنبی ہوگئی ہوں۔  اس کے ساتھ ساتھ لڑکی کو چاہیے کہ وہ اگر خود کو تبدیل کر رہی ہے، تو یہ دھیان رکھے کہ ابھی وہ اپنے دوسرے گھر چلی نہیں گئی ہے، اس لیے کچھ توازن رکھیں اور عمل سے زیادہ ذہنی طور پر تبدیلیاں اختیار کریں اور یہ سوچیں کہ وہ نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہیں، لیکن  ان کے پرانے رشتوں پر بھی کوئی فرق نہیں آنا چاہیے۔ بعض لڑکیاں منگنی کے بعد ہی ایک دم سے سسرال اور ہونے والے نئے رشتے داروں سے بہت زیادہ گھلنے ملنے لگتی ہیں اور گھنٹوں ان سے باتیں کرتی رہتی ہیں، جس سے گھر والوں کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اب وہ نظر انداز ہو رہے ہیں۔
وہ پہلے ہی حساس ہوتے ہیں کہ اب ان کی بچی پرائی ہوچکی ہے۔ یہ صورت حال اس اعتبار سے بھی مناسب نہیں ہے کہ اس وقت یہ رشتہ گویا ایک کچے دھاگے سے بندھا ہوتا ہے، اس لیے بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے، کیوں کہ منگنی سے شادی  تک کے وقت میں بہت سے لوگ بھی غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں اور ذرا سی بات کا بتنگر بنتے دیر نہیں لگتی اور اس کا نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلتا۔ اس لیے بعد کے کسی پچھتاوے سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ پہلے ہی یہ چیزیں ملحوظ رکھی جائیں۔ اس کے علاوہ  ضروری ہے کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ  بلاشبہ شادی کے بعد ایک نئی زندگی کی سمت سفر کرنا ہے، لیکن یاد رکھیں اس سفر کی راہیں گھر والوں کی اہمیت کو کم کر کے ہر گز نہیں جاتیں۔ اگر آپ نئے گھر کے زعم میں گھر والوں کو نظر انداز کرنے کی راہ پر چل پڑی ہیں تو یہ نہایت غیر مناسب عمل ہے۔
منگنی کے بعد سسرال کو اہمیت دی جائے، لیکن ساتھ ہی گھر والوں کی خواہشات کا بھی خیال رکھیں، کوشش کریں اپنے والدین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں‘ بہن بھائیوں کو نند، بھاوجوں پر ترجیح دینے سے گریز کریں۔ اگر گھر والوں کے ساتھ بیٹھی ہوں اور سسرال سے کوئی کال آجائے تو آپ کچھ وقت کے بعد بات کر لیں،  والدین اور گھر والوں سے اسی طرح تبادلہ خیال کیا کریں، جیسے منگنی سے پہلے کرتی تھیں۔ اپنے مسائل والدہ کو بتائیں تاکہ انہیں احساس رہے کہ وہ اب بھی آپ کے لیے اسی طرح اہم ہیں۔ بہن بھائیوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں شریک ہوں۔ انہیں احساس دلائیں کہ آپ کی زندگی میں ان کی بہت اہمیت ہے۔ نئے رشتوں کی آمد، پرانے رشتوں پر اثر انداز نہیں ہونی چاہیے۔ اپنی سمجھ داری اور اخلاق سے سسرال والوں کو گرویدہ ضرور بنائیں، لیکن اپنے اس گھر کو نظر انداز نہ کریں، جہاں آپ نے زندگی کے خوب صورت دن گزارے ہیں، نئی زندگی کی شروعات ضرور کریں، لیکن پرانے رشتوں کو نظر انداز نہ کریں۔

Wednesday, 4 December 2013

57 rs theft by a man in india & indian court declair this case after 29 year




milkha singh vs abdul khaliq


Javed ChaudhryAbdul Khaliq born March 23, 1933 in a small village "Jand Awan" in district Chakwal (Punjab) in Pakistan. He is a retired Pakistani sprinter who competed in 100m200m and 4 x 100 metres relay. He participated in the 1956 Melbourne Olympics and 1960 Rome Olympics.[1] A real version of Khaliq features in the 2013 Bollywood filmBhaag Milkha Bhaag, focusing on his rivalry with Indian athlete Milkha Singh.
RankNameCountryTime
1A. KhaliqPakistan21.1
2M. L. RaeNew Zealand21.4
3J. Pires SobrinhoBrazil21.6
4T. A. RobinsonBahamas21.6
5S. JakabfyHungary21.6
6M. SpenceJamaica21.7

40 WOMAN KILLED IN INDIA

Secular-India-Forty-Women-Killed-As-they-war-Declare-As-Ghost-Desi-Tv-Online

Tuesday, 3 December 2013

vinod kambli discharg from Lilavati Hospital india

Former Indian cricketer Vinod Kambli, who had been admitted to Lilavati Hospital in Bandra after he suffered a heart attack, was discharged from the hospital on Tuesday.
“Yes, he (Kambli) has been discharged,” hospital sources said.
The 41-year-old cricketer was on November 29 rushed to the suburban hospital accompanied by police personnel after he complained of chest pain while driving his car and had sought help.
“Thank you for your good wishes and prayers. My health is a lot better now. I am back home,” Kambli said after being discharged from the hospital.